by Molvi Ustra on Monday, January 28, 2013 at 2:14pm ·
A secular state REPUBLIC OF PAKISTAN is my dream :)
کافی دنوں سے آپ دوستوں کے پیغامات موصول ہورہے تھےکہ آپ میرے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ میں کون ہوں؟میرا مذہب کیا ہے؟ اور پھر میرا نام کیا ہے؟ تو سوچا کہ آج کا یہ پوسٹ صرف اپنے بارے میں ہی لکھ دوں۔ تو دوستوں میرے نام کے بارے میں تو نا ہی پوچھو تو اچھا ہے کیونکہ بتانے کو تو کویٴ جھوٹا نام بھی بتایا جاسکتا ہے لیکن جھوٹ بولنا مجھے خود کو اچھا نہیں لگتا۔ ویسے بھی اگر میں نے اپنا نام بتا دیا تو پھر آپ سے اپنے پوسٹوں میں اتنی ساری باتیں نہیں کرسکوں گا۔ تو جناب میرا تعلق کراچی سے ایک سنی مسلمان گھرانے سے ہے بچپن سے ہی ساینس، مذہب اور رسرچ کا شوق تھا۔ فزکس میں بی۔ایس۔سی کرکے ساینس کا شوق پورا کرلیا۔ پھر فارغ اوقات میں تورات، زبور، انجیل اور قرآن پڑھ کر مذہب کا شوق بھی پورا کرلیا۔ اب باری تھی پیشہ ور تعلیم کی تو ایل۔ایل۔بی کرکے سن 2001 سے کراچی میں وکالت شروع کردی۔ یہ کام مجھے اس لیے اچھا لگا کہ ہر مقدمہ میں ایک نیٴ کہانی ہوتی تھی اور ایک نیٴ رسرچ کرنے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ میری پریکٹس زیادہ تر کرمنل سول اور فیملی لاز میں تھی اسی لےٴ بہت سے معاشرتی مسایل کو گہرایوں سے پرکھنے کے مواقع ملتے رہے۔ پھر سیشن جج بننے کا شوق ہوا تو ایل۔ایل۔ایم یعنی قانون میں ماسٹر ڈگری حاصل کی کچھ عرصہ سرکاری وکیل بھی رہا۔ جج بننے کیلےٴ 5 سال کی پریکٹس ضروری تھی اسی لیے وکالت کرتا رہا لیکن اپنی پریکٹس کے دوران سرکاری محکموں اور لوگوں میں کرپشن اور بے ایمانیاں دیکھ دیکھ کر دو ہی راستے زندگی میں نظر آنے لگے کہ یا تو میں بھی اسی معاشرے کا حصہ بن جاوٴں اور یا پھر اس معاشرے کو ہی چھوڑ دوں۔ پھر ایسا دور بھی آیا کہ اگر کویٴ مقدمہ عدالت میں ہوتا تو ایم کیو ایم کے دہشت گرد کہتے کہ وکیل صاحب فلاں مقدمہ آپ نا لڑو کیونکہ وہ معاملہ ہمارے خلاف جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جب میں نے یہ محسوس کیا کہ ایک دم معاشرہ تبدیل نہیں ہوسکتا تو کیوں نا یہ معاشرہ ہی چھوڑ دیا جاےٴ بس پھر قانون میں پی۔ایچ۔ڈی کرنے پاکستان سے باہر جانے کا پروگرام بنایا اور یوں فن لینڈ آگیا۔ یہاں کا ماحول اچھا لگا تو یہیں امیگریشن اور بزنس لاء میں پریکٹس شروع کردی اور فن لینڈ کو ہی اپنا ملک بنا لیا۔ لیکن بات تو یہ ہے کہ اگر ایک پاکستانی دنیا کے کسی بھی ملک میں چلا جاےٴ خواہ وہ وہاں اپنی ساری زندگی بھی گذار دے لیکن نا تو وہ وہاں کا گورا بن سکتا ہے اور نا ہی چپٹا جاپانی یا کالا افریقی بلکہ پاکستانی کی پہچان پاکستان سے کبھی بھی کیٴ نسلوں تک ختم نہیں ہوتی۔ اسی لیے جب میں نے دیکھا کہ پاکستان سے کویٴ اچھی خبر آتی ہی نہیں کبھی کویٴ مردے کھاتا ہوا پکڑا جاتا ہے تو کبھی کویٴ مردوں سے زنا کرتا ہوا ، کبھی کتے کے گوشت بیچنے کی خبر آتی تو کبھی مردہ جانوروں کے تیل کی۔ اور پھر اس سے بڑھ کر ہر دن مذہب اور لسانیت کے نام پر لوگوں کے مرنے کی خبریں بس اسی دوران نومبر 2012 میں فیس بک پر آیا وہاں محترم دوست ملاں منافق کے پوسٹ دیکھے تو دل کو ایک ڈھارس سی ہویٴ کہ سچی باتیں کسی ایسی ہی آیٴ ڈی سے کی جاسکتی ہیں۔ ایک دم مولوی اُسترا کا نام ذہن میں آیا تو بس مولوی اُسترا بن گیا۔ کیونکہ میرے ذہن میں اکثرکچھ ایسی باتیں آتی رہتی ہیں جنکو میں سمجھتا ہوں کہ اگر اپنے پاکستانی لوگوں سے شیر کروں تو شاید کچھ سچایٴ لوگوں کے دلوں میں اتر سکے۔ میرا انداز بیاں ہوسکتا ہے آپکو اچھا نا بھی لگے لیکن جو بات کہتا ہوں ایک بار اس پر غور ضرور کرلیا کرو کیونکہ جب کسی بیماری کے خلاف ٹیکا لگایا جاتا ہے تو اسکی تھوڑی سی تکلیف ضرور محسوس ہوتی ہے۔ میری باتوں کے ٹیکوں کا مقصد آپ لوگوں کا دل دکھانا نہیں ہوتا بلکہ میں اپنی نیک نیتی کے ساتھ خیالات کا اظہار صرف اس لیےٴ کرتا ہوں تاکہ ہمارا پاکستانی معاشرہ مختلف قسم کی برایوں کو سمجھ سکے اور اس سے نجات حاصل کرسکے۔ بحثیت انسان مجھ سے کہیں غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن آپ پوسٹ کے نیچے ایسی غلطی کی نشاندھی ضرور کر دیا کرو کیونکہ ہم ہر وقت ایک دوسرے سے کچھ نا کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔ اور کسی کا بھی علم کامل نہیں ہوتا بلکہ ہر علم وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے
اب تھوڑا سا یہ بھی جان لو کہ زندگی کے راستے کیسے بدل جاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب آپ جاہل ملاوٴں کی وجہ سے اسلام سے باغی ہو چکے ہو لہٰذا فلاں کتاب پڑھو تو اسلام کو سمجھ سکو گے۔ لیکن میں اپنے بارے میں آج آپ سب کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ایسا آدمی نہیں کہ جو کسی جاہل ملاں کی وجہ سے مذہب چھوڑ دے بلکہ میں نے دوران تعلیم شرعی قوانین کا بہت گہرایٴ سے مطالعہ کیا کیونکہ اسلامی قوانین کی بنیادیں قرآن اور سنت میں ہیں اسی لیے شرعی قوانین کا مطالعہ کرتے ہوےٴ جب میں ان قوانین کی بنیادی جڑوں تک پہنچا تو وہاں سواےٴ جہالت کے کچھ نہیں پایا۔ ایک آدمی دنیا کے جدید ماڈرن قوانین پڑھتے پڑھتے جب اسلامی قوانین پڑھتا ہے تو اسے سیاہ اور سفید بالکل ایسے نظر آرہا ہوتا ہے جیسے میرا یہ پوسٹ آپکی آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے اسلام کو بہت اچھی طرح اسکی گہرایوں سے سمجھا اسے پرکھا اور اسے نا صرف جھوٹا بلکہ ایک پاگل کلچر جیسا مذہب پایا اسی لیے میں نے اسلام چھوڑ دیا۔ اسلام ایک اسیے مرے ہوےٴ گھوڑے کی طرح ہے جس کو زبردستی کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اگر اسکا سر نیچے گرے تو ایک حدیث وہاں لگا دی جاتی ہے جب پشت نیچے گرے تو کچھ حدیثیں وہاں لگا دی جاتی ہیں۔ لیکن یاد رکھو قرآن کی تفسیروں، تشریحوں یا حدیثوں سے مرا ہوا گھوڑا کبھی زندہ نہیں ہوسکتا۔ اور اب صرف انسانیت ہی میرا مذہب ہے کیونکہ جب آپ ایک اچھا کام کرنا چاہیں تو آپکو کسی مذہب کی کویٴ ضرورت نہیں ہوتی لیکن اگر آپ کویٴ غلط کام کرنا چاہتے ہو تو پھر اس غلط کام کے جواز اکثر اسلام مذہب آپ کو دے دیتا ہے۔ جنگ میں لوٹ کا مال مذہب جایز قرار دیتا ہے اور یہاں تک کے عورتوں کو بھی مال غنیمت کہا گیا۔ پھر انسانوں کو غلام بنانے کیلے بھی اسلام بہت سے طریقے بتا دیتا ہے۔ میرے نذدیک اسلام دنیا کا سب سے فضول اور گندا ترین مذہب ہے جسے قایم رکھنے کیلے ہر دورمیں انسانی خون بہایا گیا وہ جنگ جمل کا واقعہ ہو یا جنگ سفیان کا اور پھر کربلا کا واقعہ ہو یا آج کے شعیہ سنی فسادات کا ہر دور میں اسلام انسانی خون مانگتا ہے۔ بس یہی وہ چند باتیں ہیں جن کی وجہ سے میری زندگی کے راستے اسلام سے الگ ہوگےٴ۔ کبھی کبھی کچھ لوگ میری باتوں کے بارے میں ریفرنس مانگتے ہیں تو بات یہ ہے کہ جب ہم بہت سی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں تو اچھی باتیں ذہن پر نقش ہوجاتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ کتاب کا نام یا اسکا صفحہ نمبر بھی یاد رہ سکے جب کسی تسلسل کے ساتھ کویٴ بات لکھ رہا ہوتا ہوں تو کچھ واقعاتی غلطیوں کا امکان ممکن ہوتا ہے ایسی غلطی اگر ہو تو سمجھ لو بات کسی انسانی دماغ سے آرہی ہے کسی کمپیوٹر سے نہیں لیکن ایسی واقعاتی غلطی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پوری کی پوری بات یا پوسٹ جھوٹ ہو۔ اسی طرح اگر کسی بات کا ریفرنس نا بھی ہو تو ضروری نہیں کہ وہ بات ہوایٴ ہو بلکہ آپ خود اس معاملہ کی چھان بین کرلیا کرو اس سے آپکے اپنے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔ لیکن سب سے اچھا ریفرنس ہماری اپنی ریشنل سوچ ہوتی ہے۔
اب آخر میں دوستوں کو ایک چھوٹا سامشورہ دینا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آپکی اپنی فطری شخصیت اور سوچ بہت انفرادی اور اعلیٰ ہوتی ہے لیکن ہم اپنی سوچ اور شخصیت کو اس وقت مسخ کرنا شروع کردیتے ہیں جب ہم اپنے آپکو کچھ اور بنانے کی کوشش کرتے ہیں دنیا بھر کے لوگوں کی کتابیں پڑھو انکے نظریات جانو اپنے دماغ کو کسی بھی ایک مصنف کا گرویدہ نا بناوٴ بلکہ ہر چیز پڑھو اور اسکے بعد جو آپکے دل سے آواز اٹھے اسے بہت غور کے ساتھ سنو کیونکہ وہی بات آپکو سچ کے قریب لے جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ نے کسی ایک مصنف کو یا کسی ایک نظریہ کو اپنے آپ پر حاوی کر لیا تو آپ ہمیشہ دل سے اٹھنے والی آواز کو مس کرتے جاوٴ گے اور یہی چیز آپکو سچ سے دور لے جاتی ہے۔ زیادہ تر ہمارے تعلیم یافتہ مسلمان جب کویٴ ایسی چیز پڑھتے ہیں جو انکے مذہب کے خلاف ہو تو وہ اپنے دل سے اٹھنے والی آواز کو دبا دینا چاہتے ہیں اور اسی لیے وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بعض اوقات ایک پڑھے لکھے جاہل ہونے کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس آپ نے اپنی زندگی میں کچھ ایسے لوگ ضرور دیکھے ہونگے جو ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے دل کی آواز کو بھر پور طریقے سے سن لینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ہمت بھی اور پھر وہ سچایٴ کے اتنے قریب ہوجاتے ہیں کہ انکی باتوں سے ایک پڑھا لکھا آدمی بھی متاثر ہوےٴ بغیر نہیں رہ سکتا۔
بس میرا ایک ہی خواب ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہو اسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان سے تبدیل کرکے ریپبلک آف پاکستان ہوجاےٴ تاکہ پاکستانی عوام بھی دنیا کے ساتھ ملک کر آزادانہ اور باوقار طریقے سے ترقی کر سکے۔
تو جناب یہ تھی میری کچھ یادیں اور اپنے بارے میں کچھ باتیں باقی آپ دوستوں سے بات چیت ہوتی رہے گی اب اجازت چاہوں گا۔
REPUBLIC OF PAKISTAN - ZINDABAD