WEDNESDAY, 31 OCTOBER 2012 17:00
2012ء میں ہولناک طوفان سے عظیم طاقت پناہ مانگتی نظر آئے گی، نوسٹرا ڈیمس کی پیشگوئی
نیو جرسی اور نیویارک میں سمندری طوفان میں شدت کے بعد تین ایٹمی بجلی گھروں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ ایٹمی ماہرین نے خدشات ظاہر کئے ہیں کہ ان ایٹمی گھروں سے تابکاری پھیلنے کے قوی امکانات ہیں۔ جس سے سیکنڑوں جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
امریکہ میں ایٹمی اثاثوں کی ناقص حفاظت خود امریکہ کی سالمیت کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔دوسرے ممالک کو ایٹمی اثاثوں کو کمزور ہاتھوں میں کہنے والا آج خود اپنے ناقص حفاظتی انتظامات کی وجہ سے خطرہ بن چکا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو ملک کے سب سے پرانے فعال پلانٹ میں استعمال شدہ یورینیم یا فیول راڈز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی طور پر پانی کی فراہمی کی ضرورت پڑے گی۔
پلانٹ کے ایک ترجمان نے یہ انتباہ جوہری تنصیب میں ساڑھے چھ فٹ تک پانی بھر جانے کے بعد جاری کیا کیونکہ اس کے باعث پانی تقسیم کرنے کے پائپوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور امکان ہے کہ ایٹمی تابکاری کے اثرات باہر منتقل ہوسکتے ہیں۔
امریکہ کی کئی ریاستوں میں سینڈی طوفان کی تباہ کاریاں جاری ہیں، امریکی صدر بارک اوباما نے نیویارک اور نیوجرسی کو آفت زدہ قرار دے دیا جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر سے پانی نکالنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں، امریکہ میں سینڈی طوفان کے باعث ریاست نیوجرسی میں ڈیم ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے پھنسنے کا خدشہ ہے۔ نیو یارک کی سڑکیں زیرآب آگئی ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر سے پانی نکالنے میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔ امریکہ میں سپر اسٹورم سینڈی نے حکام کو پریشان کر دیا، 13 ریاستوں میں 80 لاکھ افراد بجلی سے محروم ہوگئے، پولیس اہلکار لاوٴڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔
امریکہ میں سینڈی سے بالٹی مور، فلا ڈلفیا، میری لینڈ ، نارتھ کیرولائنا اور مشرقی ٹینسی میں شدید برفباری ہو رہی ہے، نارتھ کیرولائنا اور مشرقی ٹینسی میں اب تک 7 انچ برف پڑ چکی ہے، ویسٹ ورجینیا میں برفباری کے باعث کار ٹرک میں ٹکر سے 48 سالہ خاتون ہلاک ہوگئی۔ امریکہ میں سینڈی سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 51 ہوگئی ہے۔ مقامی پاور پلانٹ میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے ”مین ہیٹن“ کا بیشتر حصہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ پولیس اہلکار گلیوں اور سڑکوں میں گشت کرتے لاوٴڈ اسپیکرز کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ سینڈی سے نیویارک کے کئی رہائشی علاقے بھی زیر آب آگئے ہیں۔ نیویارک کے ایک مکان میں لگی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے 50 گھروں کو لپیٹ میں لے لیا۔ فائر فائٹر ز کو آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
نیویارک کے سات زیر زمین ریلوے اسٹیشنز اور 6 بس گیراج پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ شہر کے حکام نے اس طوفان کو شہر کی سو سالہ تاریخ کا بدترین واقعہ قرار دیا ہے، جس سے 108 سالہ سسٹم تباہ ہوا، نیویارک کے مقامی اسپتال میں پانی داخل ہوگیا، جس کے بعد 200 مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو سینڈی سے متاثرہ علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکہ میں اس وقت 2 ہزار 8 سو آسٹریلوی مقیم ہیں۔ ادھر کینیڈا میں بھی مونٹریال ،اوٹاوا، اونٹریو میں سینڈی سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ سینڈی کے زیر اثر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
امریکا کو صدی کے سب سے بڑے طوفان”سینڈی“ کا سامنا ہے سینڈی نامی طوفان سے امریکا کو 1900ء سے لے کر 2012ء تک آنے والے طوفانوں سے زیادہ معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا میں 1900ء سے اب تک 256 چھوٹے بڑے طوفان آ چکے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ”سینڈی“ طوفان سے امریکا کو جاپان میں آنے والے 1995ء کے خوفناک زلزلے سے بھی زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ جاپان کو 1995ء میں زلزلہ سے آنے والی تباہی کی وجہ سے 1310.5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے جو کہ پاکستان کے بیرونی قرضہ سے دوگنا رقم ہے۔ نیوز نیشنل، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور امریکی ریسرچ سینٹر سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 112 سال میں امریکا میں 256 طوفان آئے ہیں جن میں مجموعی طور پر 9ہزار 70 افراد ہلاک اور 2.86 ملین افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ معاشی طور پر امریکا کو 34.197 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 29اگست 2005ء کو امریکا میں طوفان آیا تھا جس میں معاشی نقصان کا تخمینہ 125 ملین ڈالر لگایا گیا تھا۔ 12 ستمبر 2008ء میں آنے والے طوفان میں 30 ملین ڈالر، 24 اگست کو آنے والے طوفان سے 26.5 ملین، 15 ستمبر 2004ء واشنگٹن ڈی سی میں آنے والے طوفان سے 18 ملین ڈالر اور 13 اگست 2004ء کو 16 ملین ڈالر کا امریکا کو نقصان ہوا تھا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق 1900ء سے لے کر 2012ء تک سب سے خطرناک طوفان بنگلہ دیش میں آیا تھا جو نومبر 1970ء میں رونما ہوا تھا جس میں 3لاکھ افراد لقمہ اجل بنے تھے اور عالمی سطح پر سب سے زیادہ خطرناک طوفان بنگلہ دیش کے طوفان کو ہی کہا گیا تھا۔ اقوام متحدہ، این جی اوز، انشورنس کمپنیز، تحقیقاتی اداروں اور میڈیا سمیت مختلف عالمی ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1991ء میں بنگلہ دیش میں آنے والے طوفان سے ایک لاکھ 38ہزار 8سو 66 افراد صفحہ ہستی سے غائب ہو گئے تھے۔ 1991ء میں ہی میانمر (برما) میں طوفان آیا تھا جس میں ایک لاکھ 38 ہزار 3 سو 66 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 1992ء میں چین میں آنے والے سیلاب اور طوفان سے ایک لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ 1942ء میں اس وقت کے برصغیر اور آج کے بنگلہ دیش میں ”ٹائی فون“ نامی سیلاب کی وجہ سے 61 ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
امریکا کی مشرقی ریاستوں میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان کو فرانس کے عالمی شہرت یافتہ مستقبل شناس نوسٹرا ڈیمس کی پیشینگوئیوں میں تلاش کیا جارہا ہے۔ نیویارک کے بیٹری پارک میں موجود ایک امریکی نے طوفان کی ہولناکیوں کے درمیان اس امر کا انکشاف کیا کہ اس وقت اس کا علاقہ جس تباہی سے دوچار ہے اور جس طرح بیٹری پارک کے علاقے میں 13 فٹ بلند طوفانی لہروں نے علاقہ کو گھیر رکھا ہے، اس تباہی کا ذکر نوسٹرا ڈیمس کی رباعیات میں موجود ہے۔ مذکورہ امریکہ شہری نے طوفان کے ساتھ ساتھ آتشزدگی سے ہونے والی تباہی کا حوالہ بھی دیا ہے جو نوسٹراڈیمس کی رباعی میں موجود ہے۔ نوسٹرا ڈیمس نے اپنی رباعی میں کہا تھا کہ باغ (پارک) میں بہت بلند طوفان آئے گا جو اس قدر بلند ہوگا کہ لوگ یہ شگون لینے لگیں گے کہ ہولناکیوں نے پھر جنم لیا ہے۔ اس تباہی کے دوران ایک عظیم طاقت پناہ مانگتی نظر آئے گی۔ اس دوران آتش و آہن کی دیوی کے شعلے لپکیں گے اور یوں لگے گا کہ وہ گنبد کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ نوسٹرا ڈیمس کی پیشینگوئیوں کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی مفکر نے اس عظیم طوفان کی آمد کا سال 2012ء بیان کیا ہے۔ نوسٹراڈیمس نے مکمل تباہی کی تاریخ 21 دسمبر 2012 بیان کی ہے