0
PoorBest
تحریر احسن شاہ برمنگھم
استغاثہ استغاثہ استغاثہ استغاثہ استغاثہ استغاثہ استغاثہ استغاثہ استغاثہ
مجھے فخر ہے کہ جہاد افغانستان کے لیے" مجاہدین" کی بھرتی میں کلیدی کردار میری موجودہ یا سوتیلی ماں برطانیہ نے ادا کیا ۔ معروف قلم کار ہمراز "احسن" جن کا تعلق لندن سے ہے اپنے کالموں میں ان سنہرے دنوں کا ذکر کرتے ہیں جب سوویت یونین کے خلاف امریکی جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے برطانوی منصوبہ سازوں نے دنیا بھر سے" مجاہدین "کی بھرتی کا منصوبہ تیار کیا۔
لندن ،برمنگھم، بریڈ فورڈ اور مانچسٹر میں مجاہدین کے کیمپ لگائے جاتے اور انھیں ٹریننگ دی جاتی ۔ اسلحہ امریکہ مہیا کرتا اور جہاد کا بل سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک ادا کرتے ۔ روس کے نکل جانے کے بعد ان مجاہدین نے ایک دوسرے کے خلاف "جہاد" شروع کیا جو کہ آج تک جاری و ساری ہے ۔
نائن الیون کے بہانے امریکہ نے افغانستان میں اڈا جما لیا اور اب وہ نکلنے پر آمادہ نظر نہیں آتا ۔ سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا۔ ڈالروں کے لالچ میں اندھے ہوئے پاکستانی جرنیلوں نے ملک کے چپہ چپہ میں مسلح گروہ پیدا کئے ۔ مدارس کے طلباء کو اس کام کے لیے استعمال کیا اور آج ہماری مساجد اور امام بارگاہوں سے لے کر بازاروں اور شاہراہوں تک کوئی جگہ ان مجاہدین سے محفوظ نہیں ۔ انھیں پیسہ کون دیتا ہے ۔ اسلحہ کہاں سے آتا ہے اور تربیت کہاں سے ملتی ہے ۔ ہماری فوج اور خفیہ ایجنسیاں ان دہشت گردوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالتیں ؟یہ ایک الگ بحث ہے ۔
حد تو یہ ہے کہ میڈیا سے وابستہ کچھ افراد اور چند سیاستدان اسے" امریکی جنگ" قرار دے رہے ہیں ۔ اسے سیاسی نوحہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ کہ جب ہم امریکہ کو واحد سپر پار بنوانے کے لیے روس کے خلاف ہراول دستہ بنے تھے تو یہ ہماری جنگ تھی اور آج یہ دہشت گرد بسوں سے اتار اتار کر معصوم افراد کو گولیوں سے بھونتے ہیں اور محرم الحرام و میلاد النبی کے مقدس جلوسوں پر حملہ آور ہوتے ہیں تو یہ ان کے خلاف آپریشن کرنا جناب عمران خان کے نزدیک امریکی جنگ ہی۔
جہاد افغانستان سے جان نہ چھوٹی تھی کہ اب اسرائیل کو بچانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ نے" جہاد شام "شروع کردیا ہے ۔ یہاں بھی اصل منصوبہ پاکستان کو استعمال کرنے کا تھا۔اس کا دہرا فائدہ ہوتا ۔ ایک شام کو ختم کرنا اور دوسرا پاکستان اور ایران کو ایک دوسرے کے خلاف لاکھڑا کرنا۔ یہا صدر زرداری نے بہت دانشمندی کا مظاہرہ کیا ۔ امریکہ کو جھنڈی دکھائی اور الٹا شام کے موقف کی حمایت کی ۔
بشارد الاسد وہ واحد عرب حکمران ہے جو اسرائیل کا مخالف ہے اور حزب اللہ و حماس کا کھل کر ساتھ دیتا ہے ۔ بشارد حکومت کے خاتمہ کے لیے اب امریکہ کا تمام تر انحصار ترکی ,سعودی عرب اور قطر پر ہے ۔ ترکی کو اسلامی دنیا میں "رول ماڈل" کے طور پر متعارف کروایا جارہا ہے تا کہ اسلامی دنیا ایران کے اسرائیلی مخالف اور شدت پسند کردار کی بجائے ترکی کے کے معتدل کردار کی پیروی کرے ۔
بعض پاکستانی کالم نگا ر بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ترکی میں عبادت خانے اور شراب خانے دونوں آباد ہیں جو کہ ترکی کی "اعتدال پسندی" کا مظہر ہیں ۔الیگزینڈر ھیگنزامریکی مصنف نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ برطانیہ ایک بار پھر جہادی بھرتی کر ہا ہے ۔ ان جہادیوں کو ترکی میں مکمل کمانڈو تربیت دی جاتی ہے ۔ہمیشہ کی طرح اسلحہ امریکہ فراہم کرتا ہے ۔ جہاد کے تمام تر اخراجات مملکت سعودی عرب برداشت کرتی ہے ۔ یہ اخراجات کی برداشت کا ہی شاخسانہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنی تاریخ کا پہلا ایسا بجٹ پیش کیا جو کہ خسارے پر مبنی ہے ۔ دنیا بھر سے سلفی مسلک کے لوگ یہاں بھرتی کئے جارہے ہیں ۔
برطانوی ممبر پارلیمنٹ خالد محمود نے دو ہفتہ قبل یہ مسئلہ برٹش میڈیا میں بھی اٹھایا تھا کہ جہادیوں کی بھرتی نہ صرف شام میں بے گناہوں کے قتل عام کا سبب بنے گی بلکہ اس سے مستقبل میں خود برطانیہ کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔
فارس نیوز ایجنسی نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ پاکستان کے علاقہ شمالی وزیرستان سے دہشت گرد بھرتی کئے جارہے ہیں اور انہیں ترکش ائرلائنز کے ذریعہ ترکی لے جایا جا رہا ہے ۔ نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ آخری فلائٹ ترکش ائر بس نمبر 709تھی جو10 دسمبر۲۰١۲کو وزیرستان سے دہشت گردوں کو تربیت کے لیے ترکی لے کر گئی۔
او آئی سی جس کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک کے مفادات کا تحفظ اور ان کی سلامتی یقینی بنانا ہے عملاً امریکہ کے تسلط میں ہی۔ او آئی سی کا گزشتہ اجلاس امریکی خواہش پر بلایا گیا اور اس کا واحد ایجنڈا شام کی رکنیت خارج کرنا تھا۔
ایران نے نام کانفرنس کا انعقاد کرکے دنیا بھر سے اپنا مضبوط وجود منوا لیا ہے اور تجزیہ نگار یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے کہ عالمی تنہائی کا شکار ایران نہیں اسرائیل ہے ۔ حالیہ صورت حال یہ کہ ایران چین اور روس کھل کر شام کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ حزب اللہ شام کی پشت پر کھڑی ہے ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت امریکہ کے بجائے روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے جارہی ہے جو کہ وطن عزیز کے لیے یقینا خوش آئند ہے ۔
تاریخ میں پہلی بار روس کے صدر پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں جو کہ عظیم سفارتی کامیابی ہے ۔ پاک ایران تعلقات بھی دن بہ دن مضبوط ہورہے ہیں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ذریعہ شام میں دہشت گردانہ کاروائیاں جاری رکھے گا جیسا کہ وہ پاکستان میں بھی گزشتہ پندرہ سال سے کررہا ہے ۔ لیکن شام میں حکومت گرانے کا امریکہ منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔