Towards a democratic, multicultural and progressive Pakistan
Monday May 21st 2012

Translate to English or Urdu

Archives

Categories

Subscription Options

Subscribe via RSS

Shahadaton ki dastan (The story of the martyrs) – by Ahsan Abbas Shah

٢٧ دِسمبر٢٠٠٧ کو گذرے کم و بیش ٢ سال کا عرصہ بیتنے کو ہے۔

اِس تحریر کو لکھتے وقت ٥ محرم ١٤٣١ ہجری ہے۔ نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول کا ماتم کائنات میں بپا ہے۔

میری پیاری سر زمین پاکستان میں محرم عقیدت، سوگ اور مکمل ہم آہنگی سے منایا جا رہا ہے۔ ملت اِسلامیہ کی اس ہم آھنگی میں بے شک عُلما کرام کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ ہماری لڑائی بہت بڑی ہے یہ قوم جان چُکی ہے۔ہم نے اِس لڑائی میں بہت سی قیمتی جانیں گنوا دی ہیں۔

بینظر بھٹو شہید کو ہم سے جُدا ہوئے دو سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ لیاقت باغ کے مقتل سے بہا ہُوا اِسلامی مُمالک کی پہلی خاتون وزیراَعظم بینظر بھٹو شہید کا خُون لیاقت باغ میں جما نہیں ۔ نہ ہی کوئی میونسپالٹی کی پانی کی گاڑی اُسے مٹا سکتی تھی۔ وہ سر زمین پاک کی مقدس مٹی میں تاثیر کرگیا۔ پاکستان کی عوام نے حق اور باطل میں فرق بتا دیا اور مظلوم کی مظلومیت کی گواہی دی۔ طاقت کا محور ایک دفعہ پھر قبرستان گڑھی خُدا بخش کو بنا دیا۔عوام نوحہ پڑھتی روتی پیٹتی حال سے بے حال اپنی چہیتی وزیر اعظم کو مٹی تلے دفنا کے خاموش اس لیے نہیں کہ تھک گئی ہے۔ بلکہ ہمارا غم ہماری طاقت بن کے ہمارے اندر موجود ہے۔ بینظر بھٹو شہید کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت سی قیمتی ماوں ، بہنوں، بچوں، جوانوں، بوڑھوں کی جان پاکستان کی بقا کے لیے قُربان کی ہیں۔

ہم حالتِ جنگ میں اپنے تمام مذہبی فریضے پوری عقیدت اور اہتمام سے پاکستان کے وجود کی وجہ سے منا سکتے ہیں۔ بینظر بھٹو شہید کے بعد پاکستان کی سیاست میں جو خُلا پیدا ہو گیا تھا وہ پُر توشاید کبھی نہ ہو پائے گا۔ہمارے کل کے لیے جو آج قُربانیاں دے رہیں ہیں اُنہیں یہ قوم کبھی نہیں بھُولے گی۔

میں کسی سیاسی یا مذہبی جماعت اور لیڈر کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا نا چاہتا ، میں صرف آج اپنے قلم سے اتنا پیغام عام کرنا چاہتا ہوں کہ بحیثیت ملت اسلامیہ ہمیں اپنی صفوں میں موجود دشمنوں، سازشی عناصر اور انتہا پسندوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہم مٹی کی محبت میں دی گئی کوئی شہادت بھولیں گے نہیں۔ضروت اِس اِمر کی ہے کہ ہم تمام سیاسی، مذہبی اور صوبائی اِختلافات بھُلا کر بڑی لڑائی کے لیے صف آرا رہیں اور نظر رکھیں کہ کوئی سازشی یزیدی لشکر کے مقابل صف آرا ہمارے لشکر میں انتشار پیدا نہ کر پائے۔

ایسے سازشیوں کو اپنے لشکر کی صفوں سے نکالنا اِس جنگ کو جیتنے کا سُنہری اَصول ہے۔دھیان رہے کے کوئی بالواسطہ یا بلا واسطہ ، جان بوجھ کے یا نادانی میں ایسا قدم نہ اُٹھانے پائے جس سے یزیدی لشکر ہم پر حملہ آور ہو سکے۔

حق اور باطل کی اس لڑائی میں ہم نے کبھی کسی بھی قربانی سے نہ پہلے کبھی دریغ کیا ہے نہ اب کریں گے۔ کیونکہ یہ مٹی حق شناسوں کی مٹی ہے ۔ یہ سرزمین عقیدت مندوں، سوگواروں اورعاشقانِ رسول کی دھرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلائے معلیٰ میں اِمام حسین نے یزید کی بیعت سے اَنکار کیا اور ساتھ ایک بات یہ بھی کہی جو روایتوں میں بھی ملتی ہے کہ

مُجھے اور میرے قافلے کو ہند جانے دو

اپنی تحریر اکبر الہٰ آبادی کے اس مصرعہ پر ختم کروں گا۔

کہہ دوں اِجازت ہو اگر مصرعہ یہ بَرملا

دینِ خُدا حسین ہے ، دُنیا ہے کَربلا

Reader Feedback

One Response to “Shahadaton ki dastan (The story of the martyrs) – by Ahsan Abbas Shah”

  1. not still Pakistani says:

    Only Slute to the Shohada who gave his life for the People of Pakistan
    in Punjabi COuntry of Pakistan, only PPP elevate Decomcracy and fight with Dectators and Terrorists ,now same war is start for Democaratic Goverment, SOme Taliban Journalists targeting same PPP who fought for People of Pakistan, we sindhis are very disapointed, punjbes never except SIndhis, Baloch Paktoons even Urdu Speaking

Leave a Reply